بنگلورو،3؍نومبر(ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے ٹیپو سلطان جینتی کا اہتمام کرنے کی تیاریوں پر ریاستی ہائی کورٹ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے اس سلسلے میں عرضی گذار منجوناتھ کو چیف سکریٹری سبھاش چندرکنٹیا سے رجوع ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے آج اس سلسلے میں دائر مفاد عامہ عرضی کی سماعت ختم کردی۔ چیف جسٹس ایس کے مکھرجی نے آج ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ ٹیپو سلطان جینتی کا اہتمام کیوں کیاجارہاہے اور اس سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔ عدالت کے اس طرح کے سوال سے کورٹ میں موجود اڈوکیٹ جنرل مدھو سودھن نائک بھی حواس باختہ ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملے کا تعلق ریاستی حکومت کی پالیسی سے ہے اسی لئے اس پر جواب دینے کیلئے مزید وقت درکار ہے۔ 10؍ نومبر کو ٹیپو سلطان جینتی کا ہتمام کرنے حکومت کی تیاریوں پر سخت اعتراض کرتے ہوئے چیف جسٹس ایس کے مکھرجی نے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ 8؍ نومبر تک یہ معاملہ نمٹالیا جائے۔ یہ بھی ہدایت دی کہ عرضی گذار منجوناتھ کل ہی ٹیپو سلطان جینتی کے اہتمام پر اپنے اعتراضات کے ساتھ چیف سکریٹری کے روبرو حاضر ہوں۔ ریاستی حکومت کی طرف سے ٹیپو سلطان جینتی کے اہتمام کی اپوزیشن بی جے پی اور ا س کی ہمنوا تنظیموں کی طرف سے شدید مخالفت کی جارہی ہے، ساتھ ہی ریاست کے مختلف مقامات پر احتجاجات کی تیاریاں بھی ہورہی ہیں۔ بی جے پی نے اس کے خلاف 8 نومبر کو بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اسی درمیان حکومت کے اقدام کا چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیاگیا تو کل حکومت کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے فیصلہ آج تک کیلئے موخر کیاتھا، آج حکومت کی طرف سے اڈوکیٹ جنرل نے پیروی کی اور مہلت دینے کا مطالبہ کیا ۔تاہم چیف جسٹس نے اپنا یہ موقف دہرایا کہ ٹیپو سلطان کو مجاہد آزادی قرار دیا نہیں جاسکتا۔اسی لئے سرکاری خرچ سے ان کے جنم دن کا اہتمام نہیں کیاجانا چاہئے۔ انفرادی طور پر اگر ان کا جنم دن کوئی منانا چاہے تو ان کو اختیار ہے۔ جسٹس ایس کے مکھرجی نے اڈوکیٹ جنرل کو بتایا کہ ٹیپو سلطان ایک انفرادی حکمران تھے، انہیں صرف اپنی حکومت بچانا مقصود تھا ،ملک کی آزادی نہیں۔آج بھی ٹیپو سلطان کے رشتہ دار کلکتہ مقیم ہیں۔ انہوں نے اڈوکیٹ جنرل کو آڑے ہاتھوں لیا کہ کیوں ٹیپو سلطان کی جینتی منائی جارہی ہے۔ عرضی گذار کے وکیل سجن پوویا نے کہاکہ ٹیپو سلطان کو مجاہد آزادی قرار دینا درست نہیں ہے۔جہد آزادی اور ٹیپو سلطان کی جنگوں کا کوئی تعلق نہیں ۔ٹیپو سلطان نے بیشمار کڑوا اور کونکنی باشندوں کا قتل عام کیا ہے، اسی لئے ٹیپو سلطان جینتی کے اہتمام کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ دونوں وکیلوں کی بحث کو سننے کے بعد چیف جسٹس نے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ جینتی کا اہتمام ہونا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ وہ 8؍ نومبر کو اپنے طور پر تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد سنائیں۔